Mein haar kar palat raha tha by Abdullah Azaad



میں ہار کر جب پلٹ رہا تھا

 

میں ہار کر جب پلٹ رہا تھا

مری صفوں میں جشن بپا تھا

وہ میرے اپنے تھے جن کی خاطر

دیئے میں خوابوں کے

ساتھ لے کر نکل پڑا تھا

میں آندھیوں سے الجھ پڑا تھا

انہی کے ہاتھوں پہ جب میں لوٹا تو

میں نے اپنے لہو کو دیکھا

تمام دشمن کے تیر اپنی کماں سے مجھ پر چلانے والو

تمہیں مبارک ہو قتل میرا

اے شک گزیدہ، حسد کے ماروں کا ساتھ دے کر

مجھے ہرا کر

وہ جشن فتح منانے والو

اے کاش اتنا فہم تو رکھتے

کہ میں جو ہارا تو تم بھی ہارو گے ساتھ میرے

میرے خدا تو یہ جانتا ہے

تیرے کرم کا یقیں ہے لیکن

وہ ماں سے بڑھ کر تیری محبت ہے جس کے بل پر

سوال تجھ سے میں کر رہا ہوں

ترے بھروسے پہ اتنے برسوں جو میں نے کی تھی

مری مشقت مری ریاضت مری طلب رائیگاں ہوئی کیا؟

 

عبداللہ آزاد


Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

Ye Ishq Nahi Aasan by Mirza Galib

Dhanak Dhanak meri poroon ke khuwab kar dega by Parveen Shakir

Hazaron khoof ho lakin zaban ho dil ko rafeeq(ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق