Tumari deed se katra rahihon kuch din se
تمہاری دید سے کترا رہی ہوں کچھ دن سے میں شاعری نہیں کر پا رہی ہوں کچھ دن سے وہ کچھ دنوں سے کسی اور کے لیے خوش ہے تو میں فضول ہی مسکا رہی ہوں کچھ دن سے؟ کبوتروں پہ بھروسہ نہیں رہا مجھ کو خطوط آپ ہی پہنچا رہی ہوں کچھ دن سے میں ایک دشت کی بھٹکی ہوئ مسافر ہوں جہانِ حسن میں شرما رہی ہوں کچھ دن سے میں انتظار میں پہلے بنی تھی خود پتھر اب اپنے آپ کو پگھلا رہی ہوں کچھ دن سے وہ اس کی بات، حسیں رات، مجھ کو بھول گئی بس اس کا نام لیے جا رہی ہوں کچھ دن سے کسی نے مجھ کو پکارا ہے خواب میں ماہی بس اتنی بات پہ اترا رہی ہوں کچھ دن سے