Nafraton ne jalaya hai
نفرتوں نے جلایا ہے نفرتوں نے جلایا ہے محبتوں نے بھی ستایا ہے حسرتوں نے مٹایا ہے اپنوں نے بھی کہاں اپنایا ہے دوستوں نے بھی ساتھ نہ نبھایا ہے زمانے نے الزام لگایا ہے دنیا نے پھر ستم یہ ڈھایا ہے سائے کو بھی میرے ورغلایا ہے