Ae bint e hawwa
اے بنت حوا اتارتی نہیں ہے تو دوپٹہ بھی گھر میں اپنوں کے سامنے پھر کیسے دکھا دیتی ہو بدن اپنا ان کیمروں کے سامنے اے بنت حوا محبت نہیں رہی اب ہوس ہے جسموں کی تیرے حسن کی نیلامی ہو گی تیری نظروں کے سامنے اکثر نامحرم چھوڑ جاتے ہیں ساتھ حالات سے گھبرا کر صرف محرم ہی کھڑا ہوتا ہے تیری مشکلوں کے سامنے اپنوں کو دے کر دغا ہار جاتی ہیں جو عزت محبت میں بھیک مانگتی ہے پھر وہ محبت کی غیروں کے سامنے اکثر عزت ہار کر بھی عزت بچانا ہو جاتی ہے مشکل بہت کہ بولی لگتی ہے پھر تیری محبت کی ڈھیروں کے سامنے اکثر اک پہ تھمتی نہیں یہ کہانی محبت سے ہوس تک کی گزرنا پڑتا ہے تیری محبت کو رنگ برنگے چہروں کے سامنے اول محبت نہ کر اور جو ہو تو یقین نہ کر اندھوں کی طرح صبر کر پھر نکاح کر اور سر اٹھا کر جی ہزاروں کے سامنے اے بنت حوا محبت نہیں رہی اب ہوس ہے جسموں کی تیرے حسن کی نیلامی ہو گی تیری نظروں کے سامنے