Tujhe khone ke khayal se
تجھے کھونے کے خیال سے دل میں اٹھے ہے جو اس تڑپ اور بیکلی کو میں کبھی کھونا نہ چاہوں کچھ مصلحتوں اور رسموں نے قدم زنجیر کر لئے وگرنہ ایسا تو نہیں کہ میں تیری ہونا نہ چاہوں اپنے دکھوں کو محض اسلئے ہنسی سے ٹال رکھا ہے غمِ محبت کے سوا کسی دکھ کو میں رونا نہ چاہوں