Posts

Showing posts from December, 2017

aankh mein aansu nahi hain per rulata buhat he (آنکھ میں آنسو نہیں ہیں پر رلاتا ہے بہت )

Image
آ نکھ  میں آنسو نہیں ہیں پر رلاتا ہے بہت وہ دسمبر , ہر دسمبر , یاد آتا ہے بہت ساتھ میرے بھیگتا ہے بارشوں میں بیٹھ کر یاد کے سارے دریچے کھول جاتا ہے بہت روندتا ہے یہ جہاں کی ساری دیواریں کھڑی دو قدم پہ لا کے اس کو آزماتا ہے بہت مسکراہٹ , گنگناہٹ , قہقہے , باتیں تری خواب بن کے رات بھر مجھ کو جگاتا ہے بہت جانتا ہے جب نہیں منزل کی مجھ کو آرزو راہ میں اندھے کی کیوں شمعیں جلاتا ہے بہت مجھکو دے جاتا ہے چھپ کے اسکی خوشبو کا پتہ ایک دیوانے کو پاگل یہ بناتا ہے بہت خواہشوں کے بیج بو کے خود چلا جاتا ہے یہ وہ دسمبر , ہر دسمبر دل دکھاتا ہے بہت for more urdu sad poetry like on facebook page .... https://www.facebook.com/UrduSadPoetryGazal/

Mere humsafer tujhy kiya khabar(مرے ہم سفر‘ تجھے کیا خبر)

Image
مرے ہم سفر‘ تجھے کیا خبر! یہ جو وقت ہے کسی دُھوپ چھاؤں کے کھیل سا اِسے دیکھتے‘ اِسے جھیلتے مِری آنکھ گرد سے اَٹ گئی مِرے خواب ریت میں کھوگئے مِرے ہاتھ برف سے ہوگئے مِرے بے خبر‘ ترے نام پر وہ جو پُھول کھلتے تھے ہونٹ پر وہ جو دیپ جلتے تھے بام پر‘ وہ نہیں رہے وہ نہیں رہے کہ جو ایک ربط تھا درمیاں وہ بکھر گیا وہ ہَوا چلی کسی شام ایسی ہَوا چلی کہ جو برگ تھے سرِ شاخِ جاں‘ وہ گرادیئے وہ جو حرف درج تھے ریت پر‘ وہ اُڑا دیئے وہ جو راستوں کا یقین تھے وہ جو منزلوں کے امین تھے وہ نشانِ پا بھی مِٹا دیئے! مرے ہم سفر‘ ہے وہی سفر مگر ایک موڑ کے فرق سے ترے ہاتھ سے مرے ہاتھ تک وہ جو ہاتھ بھر کا تھا فاصلہ کئی موسموں میں بدل گیا اُسے ناپتے‘ اُسے کاٹتے مرا سارا وقت نکل گیا تو مِرے سفر کا شریک ہے میں ترے سفر کا شریک ہوں پہ جو درمیاں سے نکل گیا اُسی فاصلے کے شمار میں اُسی بے یقیں سے غبار میں اُسی رہگزر کے حصار میں ترا راستہ کوئی اور ہے مرا راستہ کوئی اور ہے For mor urdu sad poetry like on facebook page ......https://www.facebook.com/UrduSadP...

کی آخری شام اور کچھ یادیں....

Image
نومبر کی آخری شام اور کچھ یادیں کچھ لمحے نومبر کے ہم نے یوں گزارے ہیں موسم تری یادوں کے صور میں اتارے ہیں اور اپنے خالق سے یہ دعا مانگی ہے کہ اب کی بار دسمبر میں جب بھی بادل اتریں تو نفرتوں کی بارش میں دشمنوں کی سازش میں بس اسی گزارش میں زندگی کو جینے کا اختیار مل جائے اے کاش____! ہمیں بھی اعتبار مل جائے ﺳﻨﻮ...! ﻧﻮﻣﺒﺮ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺟﺎﺗﮯ ﻧﻮﻣﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﺗﺠﮕﻮں ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏ ﮐﺮﺏ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺳﻮﻏﺎﺕ ﻣﻌﺒﺪ _ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﭘﻨﮩﺎﮞ ﭼﯿﺨﺘﯽ ﺗﻨﮩﺎﺋﯿﺎﮞ ﺍﺟﺎﮌﭘﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﻧﺼﺎﺏ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺩﯼ ﻭﮦ ﮐﺘﺎﺏ ﺟﺲ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﻤﮭﺎﺭﺍ ﺍﻧﺘﺴﺎﺏ '' ﭘﺖ ﺟﮭﮍ ﺭﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﺮ ﺍﻟﻢ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﺍﺏ ﺧﺘﻢ '' ﺩﯾﮑﮭﻮ... ﺳﺐ ﺭﻋﻮﻧﯿﺖ ﺳﮯ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﮨﻨﺲ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﻧﻮﻣﺒﺮ ﭘﮭﺮ ﺳﻮﮔﻮﺍﺭﯾﺖ ﺩﮮ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﮯ ﺳﻮﮐﮭﮯ ﺷﺠﺮ ﺳﮯ ﺍﻣﯿﺪ ﮐﺎ ﺁﺧﺮﯼ ﭘﺘﮧ ﺑﮭﯽ ﮔﺮﺍ ﭼﮑﺎ.... ﺳﻨﻮ۔۔۔ ﺍﮔﺮ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﻨﺘﮯ ﮨﻮ ﻧﻮﻣﺒﺮ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﮨﮯ ۔۔! Like our page at fb.com/urdusadpoetrygazal

Naraz poetry ناراض

Image
سنو هم ناراض هیں تم سے بهت ناراض هیں تم سے بهت مصروف هو نا تم همیں تو یاد کرنے کا  وقت برباد کرنے کا تمهیں تو وقت هی کب هے هم کو یاد کرنے کا نا تم کو یاد آتے هیں تمهیں کتنا ستاتے هیں تمهیں نا یاد آئے گے  نا تم کو یوں ستائیں گے جب هم دنیا سے جائیں گے تب هم سے ملنے آؤ گے تو هم بهی تم کو بتا دیں گے بهت مجبور هیں هم بهی  بهت مصروف هیں هم بهی همیں بهی کام هیں کتنے تب هم آنکهیں نا کهولیں گے کبهی تم سے نا بولیں گے کے هم ناراض هیں تم سے  هم ناراض هیں تم سے