کی آخری شام اور کچھ یادیں....



نومبر کی آخری شام اور کچھ یادیں
کچھ لمحے نومبر کے
ہم نے یوں گزارے ہیں
موسم تری یادوں کے
صور میں اتارے ہیں
اور اپنے خالق سے
یہ دعا مانگی ہے کہ
اب کی بار دسمبر میں
جب بھی بادل اتریں تو
نفرتوں کی بارش میں
دشمنوں کی سازش میں
بس اسی گزارش میں
زندگی کو جینے کا اختیار مل جائے
اے کاش____!
ہمیں بھی اعتبار مل جائے
ﺳﻨﻮ...!
ﻧﻮﻣﺒﺮ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ
ﺍﺱ ﺟﺎﺗﮯ ﻧﻮﻣﺒﺮ ﻣﯿﮟ
ﺭﺗﺠﮕﻮں ﮐﺎ ﻋﺬﺍﺏ
ﮐﺮﺏ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺳﻮﻏﺎﺕ
ﻣﻌﺒﺪ _ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ
ﭘﻨﮩﺎﮞ ﭼﯿﺨﺘﯽ ﺗﻨﮩﺎﺋﯿﺎﮞ
ﺍﺟﺎﮌﭘﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﻧﺼﺎﺏ
ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺩﯼ ﻭﮦ ﮐﺘﺎﺏ
ﺟﺲ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﻤﮭﺎﺭﺍ ﺍﻧﺘﺴﺎﺏ
'' ﭘﺖ ﺟﮭﮍ ﺭﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﺮ ﺍﻟﻢ
ﺟﺎﻧﺎﮞ ﺍﺏ ﺧﺘﻢ ''
ﺩﯾﮑﮭﻮ...
ﺳﺐ ﺭﻋﻮﻧﯿﺖ ﺳﮯ
ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﮨﻨﺲ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ
ﻧﻮﻣﺒﺮ ﭘﮭﺮ ﺳﻮﮔﻮﺍﺭﯾﺖ ﺩﮮ ﮐﺮ
ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﮯ ﺳﻮﮐﮭﮯ ﺷﺠﺮ
ﺳﮯ ﺍﻣﯿﺪ ﮐﺎ ﺁﺧﺮﯼ ﭘﺘﮧ ﺑﮭﯽ
ﮔﺮﺍ ﭼﮑﺎ....
ﺳﻨﻮ۔۔۔
ﺍﮔﺮ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﻨﺘﮯ ﮨﻮ
ﻧﻮﻣﺒﺮ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﮨﮯ ۔۔!

Like our page at fb.com/urdusadpoetrygazal

Comments

Popular posts from this blog

Ye Ishq Nahi Aasan by Mirza Galib

Dhanak Dhanak meri poroon ke khuwab kar dega by Parveen Shakir

Hazaron khoof ho lakin zaban ho dil ko rafeeq(ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق