Khud marz ho ke marizoon ko shifa deta hai by Atfab Abrak
خود مرض ہو کے مریضوں کو شفا دیتا ہے خود مرض ہو کے مریضوں کو شفا دیتا ہے عشق انساں کے تخیل کو ہوا دیتا ہے کسی محفل میں نہیں ان کی نشستیں لگتیں اپنے پہلو سے وہ جس جس کو اٹھا دیتا ہے سیکھ لے جو بھی یہاں کارِ وفا، بے چارہ بند مٹھی سے بھی ہر شے کو گنوا دیتا ہے وقت اور عشق میں چھنتی ہے ازل سے گاڑھی اک سے بگڑے جہاں دوجا بھی دغا دیتا ہے مہرباں بن کے ملے، دشمنِ جاں بن کے ملے ہر دو صورت میں زمانہ یہ رُلا دیتا ہے کوئی پہلے تو کوئی بعد میں رخصت لے گا ساتھ مجنوں کا تو صحرا ہی سدا دیتا ہے اس سے پہلے کسی منظر میں نظر آؤں میں اپنی نظریں ہی وہ منظر سے ہٹا دیتا ہے کیوں نہ اس بار بھی تجھ سے ہی محبت کر لیں جب یہی طے ہے کہ ہر ایک دغا دیتا ہے جانے قاصد کو رقابت ہے کہ احساس مرا خظ کو ترسیل سے پہلے ہی جلا دیتا ہے میں نہیں مانتا شاعر کبھی خود کو لیکن میرا لکھا مرے یاروں کو شفا دیتا ہے کیوں مقدر سے یوں ناراض سبھی ہیں ابرک یہ جو ملتے ہیں، انہیں کون ملا دیتا ہے ۔...