Saadaien dete hoye aur khaak urhate hoye
صدائیں دیتے ہوئے اور خاک اڑاتے ہوئے صدائیں دیتے ہوئے اور خاک اڑاتے ہوئے میں اپنے آپ سے گزرا ہوں تجھ تک آتے ہوئے پهر اس کے بعد زمانے نے مجھ کو روند دیا میں گِر پڑا تھا، کسی اور کو اٹھاتے ہوئے کہانی ختم ہوئی اور ایسی ختم ہوئی, کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے, پھر اس کے بعد عطا ہو گئی مجھے تاثیر میں رو پڑا تھا کسی کو غزل سناتے ہوئے خریدنا ہے تو دل کو خرید لے فوراً, کھلونے ٹوٹ بھی جاتے ہیں، آزماتے ہوئے تمہارا غم بھی کسی طفلِ شیر خوار سا ہے کہ اونگھ جاتاہوں میں خود اسے سلاتے ہوئے اگر ملے بھی تو ملتا ہے راہ میں فارس, کہیں سے آتے ہوئے یا کہیں کو جاتے ہوئے