Tarash kar mere baazoo uran chor gaya by Parveen Shakir
تراش کر مرے بازو اڑان چھوڑ گیا تراش کر مرے بازو اڑان چھوڑ گیا ہوا کے پاس برہنہ کمان چھوڑ گیا رفاقتوں کا مری اُس کو دھیان کتنا تھا زمین لے لی مگر آسمان چھوڑ گیا جو بادلوں سے بھی مجھ کو چھُپائےرکھتا تھا بڑھی ہے دُھوپ تو بے سائبان چھوڑ گیا عقاب کو تھی غرض فاختہ پکڑنے سے جو گر گئی تو یونہی نیم جان چھوڑ گیا نجانے کون سا آسیب دل میں بستا ہے کہ جو بھی ٹھہرا وہ آخر مکان چھوڑ گیا عقب میں گہرا سمندر ہے سامنے جنگل کِس انتہا پہ مرا مہربان چھوڑ گیا پروین شاکر