Hum sahib e ana hain by Ali Sarmad



ہم صاحبِ انا ہیں

ہم صاحبِ انا ہیں، ہمیں تنگ نہ کیجئے

مغرور، بے وفا ہیں، ہمیں تنگ نہ کیجئے

 

ہم کون ہیں ؟ کہاں ہیں؟ اسے بھول جائیے

جیسے بھی ہیں، جہاں ہیں، ہمیں تنگ نہ کیجئے

 

بہتر ہے ہم سے دور رہیں صاحبِ کمال

ہم صاحبِ خطا ہیں، ہمیں تنگ نہ کیجئے

 

بہتر ہے فاصلے سے ہی گزرا کریں جناب

مفلس ہیں ہم، گدا ہیں، ہمیں تنگ نہ کیجئے

 

ہم آپ کے ہیں کون؟ ہمیں معاف کیجئے

ہم آپ سے جُدا ہیں، ہمیں تنگ نہ کیجئے

 

ہم آپ سے خفا نہیں ہیں ، آپ جائیے!

خود ہی سے ہم خفا ہیں، ہمیں تنگ نہ کیجئے

 

ہم ہجر کا وصال ہیں ، پت جھڑ کی باس ہیں

ہم نیک بد گماں ہیں، ہمیں تنگ نہ کیجئے

 

کچھ بھی نہیں بچا ہے علیؔ اب ہمارے پاس

کچھ لفظ ہم نوا  ہیں ، "ہمیں تنگ نہ کیجئے!"

...

علیؔ سرمد


Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

Ye Ishq Nahi Aasan by Mirza Galib

Dhanak Dhanak meri poroon ke khuwab kar dega by Parveen Shakir

Hazaron khoof ho lakin zaban ho dil ko rafeeq(ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق