Yaad hai



یاد ہے ؟؟

تجھ سے بات میں اکثر

ساری رات گزر جاتی تھی

لیکن پھر بھی

بات ادهوری رہ جاتی تهی

یاد ہے تجھ سے فون پہ اکثر

شب بهر چہل، شرارت اور لڑائی

چلتی رہتی، چلتی رہتی

دن چڑھ جاتا

دن بهر تیرے میسج پڑهتے

میسج لکهتے

آنکهیں جامد ہو جاتی تهیں

ہاتھ کی پوریں دکھ جاتیں

دیکھ یہ سارا کهیل تماشہ

وقت نے پیچهے چهوڑ دیا ھے

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

Ye Ishq Nahi Aasan by Mirza Galib

Dhanak Dhanak meri poroon ke khuwab kar dega by Parveen Shakir

Hazaron khoof ho lakin zaban ho dil ko rafeeq(ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق