Wo tamaam meri hamaqatien



وہ تمام میری حماقتیں

 

وہ تمام میری حماقتیں

جو ہوٸی گناہوں کی چھاؤں میں

وہ عمل کی ساری کثافتیں،

جو لکھی گٸی ہے فضاؤں میں

تیرے سامنے ہیں زرا زرا

تیری ذات واقف حال ھے

میں بری سہی مجھے بخش دے

میرے دل کو سخت ملال ہے

میری نیند آنکھوں سے دور ہے

میری حیات گناہوں سے چور ہے

یہ کرم ہے رب جہاں تیرا،

میرا ہر گناہ بےنقاب ہے

تجھے اختیار ہے سب کا سب ،

میرا تجھ سے اتنا سوال ہے

تو معاف کر تو کریم ہے،

بس تو ہی رب ذوالجلال ہے۔


Comments

Post a Comment