Usko fursat hi nahi by Mohsin Naqvi



اس کو فرصت ہی نہیں  

اس کو فرصت ہی نہیں وقت نکالے محسن

ایسے ہوتے ہیں بھلا چاہنے والے محسن

 

یاد کے دشت میں پھرتا ہوں میں ننگے پاؤں

دیکھ تو آ کے کبھی پاؤں کے چھالے محسن

 

کھو گئ صبح کی امید اور اب لگتا ہے

ہم نہیں ہوں گے کہ جب ہوں گے اجالے محسن

 

حاکم_وقت کہاں، میں کہاں، عدل کہاں

کیوں نا خلقت کی زباں پہ لگائیں تالے محسن

 

وہ جو اک شخص متاع_دل و جاں تھا، نا رہا

اب بھلا کون میرے درد سنبھالے محسن. .

محسن نقوی

Comments

Popular posts from this blog

Ye Ishq Nahi Aasan by Mirza Galib

Dhanak Dhanak meri poroon ke khuwab kar dega by Parveen Shakir

Hazaron khoof ho lakin zaban ho dil ko rafeeq(ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق