Te karoga ye andhera me akela kese by Ahmed nadem kazami



طے کروں گا یہ اندھیرا میں اکیلا کیسے

 

طے کروں گا یہ اندھیرا میں اکیلا کیسے

میرے ہمراہ چلے گا مرا سایہ کیسے

 

میری آنکھوں کی چکا چوند بتا سکتی ہے

جِس کو دیکھا ہی نہ جائے ، اسے دیکھا کیسے

 

چاندنی اس سے لپٹ جائے ، ہوائیں چھیڑیں

کوئی رہ سکتا ہے دنیا میں اچھوتا کیسے

 

میں تو اس وقت سے ڈرتا ہوں کہ وہ پوچھ نہ لے

یہ اگر ضبط کا آنسو ہے تو ٹپکا کیسے

 

یاد کے قصر ہیں ، امید کی قندیلیں ہیں

میں نے آباد کیے درد کے صحرا کیسے

 

اس لیے صرف خدا سے ہے تخاطب میرا

میرے جذبات کو سمجھے گا فرشتہ کیسے

 

ذہن میں نت نئے بت ڈھال کے یہ دیکھتا ہوں

بت کدے کو وہ بنا لیتا ہے کعبہ کیسے

 

اس کی قدرت نے میرا راستہ روکا ہوگا

پوچھ مجھ سے کہ قیامت ہوئی برپا کیسے

 

گر سمندر ہی سے دریاﺅں کا رزق آتا ہے

اس کے سینے میں اتر جاتے ہیں دریا کیسے

 

ٹوٹتی رات نے سورج سے یہ سرگوشی کی

میں نہ ہوتی تو تیرا اندر برستا کیسے

 

احمد ندیم قاسمی


Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

Ye Ishq Nahi Aasan by Mirza Galib

Dhanak Dhanak meri poroon ke khuwab kar dega by Parveen Shakir

Hazaron khoof ho lakin zaban ho dil ko rafeeq(ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق