Seena dehek raha ho to kia chup rahe koi by Jan Eliya



سینہ دہک رہا ہو تو کیا چُپ رہے کوئی

 

سینہ دہک رہا ہو تو کیا چُپ رہے کوئی

کیوں چیخ چیخ کر نہ گلا چھیل لے کوئی

 

ثابت ہُوا سکونِ دل و جاں نہیں کہیں

رشتوں میں ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی

 

ترکِ تعلقات کوئی مسئلہ نہیں

یہ تو وہ راستہ ہے کہ بس چل پڑے کوئی

 

دیوار جانتا تھا جسے میں، وہ دھول تھی

اب مجھ کو اعتماد کی دعوت نہ دے کوئی

 

میں خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب

میرے خلاف زہر اُگلتا پھرے کوئی

 

اے شخص اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے

یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی

 

ہاں ٹھیک ہے میں اپنی اَنا کا مریض ہوں

آخرمیرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی

 

اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر

کاش اس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی۔۔

 

جون ایلیا


Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

Ye Ishq Nahi Aasan by Mirza Galib

Dhanak Dhanak meri poroon ke khuwab kar dega by Parveen Shakir

Hazaron khoof ho lakin zaban ho dil ko rafeeq(ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق