ضروری تو نہیں کہ
اُس سے بات کی جائے
اُس سے نفرتوں کی
شکایت کی جائے
گر ہے وہ بہت خوش
تو بھلا کیوں اُس سے
مسکراہٹوں کی وجہ پوچھی جائے
وہ یوں ہی رہے سدا
خان کیوں نہ دُعا کی جائے
Yeh Ishq Nahi Aasan Masoom Mohabbat Ka Bus Itna Fasana Hai Kaghaz Ki Haveli Hai Barish Ka Zamana Hai Kya Shart-E-Mohabbat Hai Kya Shart-E-Zamana Hai Awaaz Bhi Zakhmi Hai Aur Geet Bhi Gaana Hai Us Per Utarnay Ki Umeed Bohat Kum Hai Kashti Bhi Puraani Hai Aur Toofan Ko Bhi Aana Hai Samjhay Ya Na Samjhay Wo Andaaz Mohabbat Ka Aik Shakhs Ko Aankho Se Aik Shair Sunana Hai Yeh Ishq Nahi Aasan Bus Itna Samajh Lijiye Aik Aag Ka Darya Hai Aur Doob Kar Jana Hai
دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا وہ لمس میرے بدن کو گلاب کر دے گا قبائے جسم کے ہر تار سے گزرتا ہوا کرن کا پیار مجھے آفتاب کر دے گا جنوں پسند ہے دل اور تجھ تک آنے میں بدن کو ناؤ لہو کو چناب کر دے گا میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی وہ جھوٹ بولے گا اور لا جواب کر دے گا انا پرست ہے اتنا کہ بات سے پہلے وہ اٹھ کے بند مری ہر کتاب کر دے گا سکوت شہر سخن میں وہ پھول سا لہجہ سماعتوں کی فضا خواب خواب کر دے گا اسی طرح سے اگر چاہتا رہا پیہم سخن وری میں مجھے انتخاب کر دے گا مری طرح سے کوئی ہے جو زندگی اپنی تمہاری یاد کے نام انتساب کر دے گا
ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق ہجوم کیوں ہے زیادہ شراب خانے میں فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مرد خلیق علاج ضعف یقیں ان سے ہو نہیں سکتا غریب اگرچہ ہیں رازیؔ کے نکتہ ہاے دقیق مرید سادہ تو رو رو کے ہو گیا تائب خدا کرے کہ ملے شیخ کو بھی یہ توفیق اسی طلسم کہن میں اسیر ہے آدم بغل میں اس کی ہیں اب تک بتان عہد عتیق مرے لیے تو ہے اقرار بااللساں بھی بہت ہزار شکر کہ ملا ہیں صاحب تصدیق اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی نہ ہو تو مرد مسلماں بھی کافر و زندیق
Comments
Post a Comment