Mujhe rang de na soroor de by Indra Verma




مجھے رنگ دے نہ سُرور دے


مجھے رنگ دے نہ سُرور دے ، میرے دِل میں خود کو اُتار دے

میرے لفظ سارے مہک اُٹھیں ، مجھے ایسی کوئی بہار دے

 

مجھے دُھوپ میں تُو قریب کر، مجھے سایہ اپنا نصیب کر

میری نِکہتوں کو عرُوج دے ، مجھے پُھول جیسا وقار دے

 

میری بکھری حالت زار ھے ، نہ تو چین ھے نہ قرار ھے

مجھے لمس اپنا نواز کے ، میرے جسم و جاں کو نِکھار دے

 

تیری راہ کتنی طوِیل ھے ، میری زِیست کتنی قلِیل ھے

میرا وقت تیرا اسِیر ھے ، مجھے لمحہ لمحہ سنْوار دے

 

میرے دِل کی دُنیا اُداس ھے ، نہ تو ھوش ھے نہ حواس ھے

میرے دِل میں آ کے ٹھہر کبھی ، میرے ساتھ عُمر گزُار دے

 

میری نیند مُونسِ خواب کر، میرے رتجَگوں کا حِساب دے

میرے نام فصلِ گلاب کر، کبھی ایسا مجھ کو بھی پیار دے

 

شبِ غم اندھیری ھے کِس قدر، کرُوں کیسے صُبح کا میں سفر ؟؟

میرے چاند آ میری لے خبر ، مجھے روشنی کا حِصار دے

 

”اِندرا وَرما“


Comments

Popular posts from this blog

Ye Ishq Nahi Aasan by Mirza Galib

Dhanak Dhanak meri poroon ke khuwab kar dega by Parveen Shakir

Hazaron khoof ho lakin zaban ho dil ko rafeeq(ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق