Muhabbat me farmaish na karna by Naveed Ahmed Shakir



محبت میں کوئی فرمائش نہ کرنا

 

محبت میں کوئی فرمائش نہ کرنا
میری غربت کی پھر نمائش نہ کرنا

جان تو مسکرا کر دوں گا اگر چاہو
وفا کے نام پہ ہجر آزمائش نہ کرنا

خوابوں کی تعبیر ہی بدل جاتی ہے
کبھی خوابوں کی خواہش نہ کرنا

آنکھوں میں پانی دیکھ کے جل نہ جائے
دیکھنا سمندر کے قریب رہائش نہ کرنا

تو نہیں پاس مگر ہے دل میں میرے شاکر
ان فاصلوں کی کبھی پیمائش نہ کرن

نوید احمد شاکر


Comments

Popular posts from this blog

Ye Ishq Nahi Aasan by Mirza Galib

Dhanak Dhanak meri poroon ke khuwab kar dega by Parveen Shakir

Hazaron khoof ho lakin zaban ho dil ko rafeeq(ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق