Muddat ke bad kal rat



مدت کے بعد کل رات

 

مدت کے بعد کل رات

کتاب ماضی کو ہم نے کھولا؛؛

 

بہت سے چہرے نظر میں اترے

بہت سے ناموں پہ دل پسیجا؛؛

 

اک ایسا صفحہ بھی اس میں آیا

کہ جس کا عنوان صرف " تم" تھے؛؛

 

کچھ اور آنسوں پھر اس پہ ٹپکے

پھر اس سے آگے ہم پڑھ نہ پائے؛؛

 

کتاب ماضی کو بند کر کے

تمہاری یادوں میں کھو گئے ہم؛؛

 

اگر " تم " ملتے تو کیسا لگتا

انہی خیالوں میں سو گئے ہم


Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

Ye Ishq Nahi Aasan by Mirza Galib

Dhanak Dhanak meri poroon ke khuwab kar dega by Parveen Shakir

Hazaron khoof ho lakin zaban ho dil ko rafeeq(ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق