Mjhe tum yaad aati ho by m.a shaheer



مجھے تم یاد آتی ہو

مقدر کے ستاروں پر
زمانے کے اشاروں پر
اداسی کے کناروں پر
کبھی ویران صحرا میں
کبھی سنسان راہوں میں
کبھی حیران آنکھوں میں
کبھی بے جان لمحوں میں
تمہاری یاد ہولے سے
کوئی سرگوشی کرتی ہے
یہ پلکیں بھیگ جاتی ہیں
دو آنسو ٹوٹ گرتے ہیں
میں پلکوں کو جھکاتا ہوں
بظاہر مسکراتا ہوں
فقط اتنا ہی کہتا ہوں
مجھے کتنا ستاتی ہو
مجھے تم یاد آتی ہو


مجھے تم یاد آتی ہو

ایم اے شاہ ہیر


Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

Ye Ishq Nahi Aasan by Mirza Galib

Dhanak Dhanak meri poroon ke khuwab kar dega by Parveen Shakir

Hazaron khoof ho lakin zaban ho dil ko rafeeq(ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق