Mera ishq bhi to hai



میرا بس چلے تو تیری سوچوں پر

اپنی یادوں کا پہرا بیٹھا دوں

تُو دیکھے تو مجھے

تُو سوچے تو مجھے

ذکر ہو تو میرا

خیال ہو تو میرا

تیرا ماضی بھی میں

تیرا حال بھی میں

تیرا آنے والا کل بھی میں

میرا بس چلے تو تُجھے یوں چاہوں

کہ میری چاہت کی ابتدا بھی تُو

میری چاہت کی انتہا بھی تُو

میرا عشق بھی تُو

میرا ایمان بھی تُو

میری ذات بھی تُو

میری بات بھی تُو

ہو عشق کی انتہا کچھ اسطرح

جو تُو نہیں تو میں نہیں

جو میں نہیں تو تُو نہیں


Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

Ye Ishq Nahi Aasan by Mirza Galib

Dhanak Dhanak meri poroon ke khuwab kar dega by Parveen Shakir

Hazaron khoof ho lakin zaban ho dil ko rafeeq(ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق