Kab gham sune se ,kisi baat se gaya by Atfab Abrak



کب غم کہے سنے سے، کسی بات سے گیا

 

کب غم کہے سنے سے، کسی بات سے گیا

میں رات تھا، اندھیرا کبھی رات سے گیا

 

پہلے پہل تھا اس کا محبت سے دل بھرا

پھر رفتہ رفتہ ساری شکایات سے گیا

 

جانے یہ کیسے فاصلے آئے ہیں درمیاں

مجھ میں جو بس رہا تھا ملاقات سے گیا

 

کچھ اس لئے بھی آنکھ میں رنگینیاں ہیں کم

جو نقش روشنی تھا خیالات سے گیا

 

اس حادثے میں حادثہ در اصل یہ ہوا

جو دل زباں دراز تھا ہر بات سے گیا

 

ابرک نہ رنج کر یہ یہاں کا رواج ہے

 بچ کر نہ کوئی زیست کی اس گھات سے گیا


Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

Ye Ishq Nahi Aasan by Mirza Galib

Dhanak Dhanak meri poroon ke khuwab kar dega by Parveen Shakir

Hazaron khoof ho lakin zaban ho dil ko rafeeq(ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق