Jis qadar sabar kar chuka hoon me
جس قدر صبر کر چکا ہوں میں
جس قدر صبر کر چکا ہوں
میں
اس قدر میٹھا پھل تو تو
بھی نہیں
اے شگوفوں میں رنگ بھرتے
شخص
اس اداسی کا حل تو تو بھی
نہیں
جو تری جستجو میں چھوڑ
دیا
اس کا نعم البدل تو تو
بھی نہیں
تیرے ہوتے بھی سب خراب
ہی تھا
اور پھر آج کل تو تو بھی
نہیں

Comments
Post a Comment