Ishq to laal hai



عشق تو لال ہے

جب کہا تھا محبت گناہ تو نہیں،

پھر گناہ کے برابر سزا کیوں ملی،

زخم دیتے ہو کہتے ہو سیتے رہو،

جان لے کر کہو گے کہ جیتے رہو،

پیار جب جب زمین پے اُتارا گیا،

زندگی تجھ کو صدقے میں وارا گیا،

پیار زندہ رہا مقتولوں میں مگر،

پیار جس نے کیا وہ مارا گیا،

حد یہی ہے تو حد سے گزر جائیں گے،

عشق چاہے گا چپ چاپ مر جائیں گے،

یہ محبت میں نکلی ہوئی فال ہے،

عشق تو لال ہے عشق تو لال ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

Ye Ishq Nahi Aasan by Mirza Galib

Dhanak Dhanak meri poroon ke khuwab kar dega by Parveen Shakir

Hazaron khoof ho lakin zaban ho dil ko rafeeq(ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق