Hukum tera hai to tameel key dete hain



حکم تیرا ہے تو تعمیل کیے دیتے ہیں

 

حکم تیرا ہے تو تعمیل کیے دیتے ہیں

زندگی ہجر میں تحلیل کیے دیتے ہیں

 

تو میری وصل کی خواہش پہ بگڑتا کیوں ہے

راستہ ہی ہے چلو تبدیل کیے دیتے ہیں

 

آج سب اشکوں کو آنکھوں کے کنارے پہ بلاؤ

آج اس ہجر کی تکمیل کیے دیتے ہیں

 

ہم جو ہنستے ہوئے اچھے نہیں لگتے تم کو

تو حکم کر آنکھ ابھی جھیل کیے دیتے ہیں..


Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

Ye Ishq Nahi Aasan by Mirza Galib

Dhanak Dhanak meri poroon ke khuwab kar dega by Parveen Shakir

Hazaron khoof ho lakin zaban ho dil ko rafeeq(ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق