Ghar ka rasta bhi mila tha shayad by Aada Jafri



گھر کا رستہ بھی ملا تھا شاید

 

گھر کا رستہ بھی ملا تھا شاید
راہ میں سنگ وفا تھا شاید

اس قدر تیز ہوا کے جھونکے
شاخ پر پھول کھلا تھا شاید

جس کی باتوں کے فسانے لکھے
اس نے تو کچھ نہ کہا تھا شاید

لوگ بے مہر نہ ہوتے ہوں گے
وہم سا دل کو ہوا تھا شاید

تجھ کو بھولے تو دعا تک بھولے
اور وہی وقت دعا تھا شاید

خون دل میں تو ڈبویا تھا قلم
اور پھر کچھ نہ لکھا تھا شاید

دل کا جو رنگ ہے یہ رنگ اداؔ
پہلے آنکھوں میں رچا تھا شاید

 


Comments

Popular posts from this blog

Ye Ishq Nahi Aasan by Mirza Galib

Dhanak Dhanak meri poroon ke khuwab kar dega by Parveen Shakir

Hazaron khoof ho lakin zaban ho dil ko rafeeq(ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق