Chal ek aesi nazam likho
چَل آ اِک ایسی نظم کہوں
چَل آ اِک ایسی نظم کہوں
جو لفظ کہوں وہ ہو جائے
،
بس اشک کہوں تو اِک آنسو
ترے گورے گال کو دھو جائے
،
مَیں آ لکھوں ، تُو آ جائے
،
میں بیٹھ لکھوں ، تُو آ
بیٹھے ،
مرے شانے پر سر رکھے تو
مَیں نِیند کہوں، تُو سو
جائے ۔
میں کاغذ پر تِرے ہونٹ
لکھوں
تِرے ہونٹوں پر مُسکان
آئے ،
میں دِل لکھوں ، تُو دِل
تھامے ،
میں گُم لکھوں ، وہ کھو
جائے ۔
تِرے ہاتھ بناؤں پینسِل
سے
پھر ہاتھ پہ تیرے ہاتھ
رکھوں
کُچھ اُلٹا سِیدھا فرض
کروں
کُچھ سِیدھا اُلٹا ہو جائے
۔
میں آہ لِکھوں ، تُو ہائے
کرے
بے چین لکھوں ، بے چین
ہو تُو
پھر میں بے چین کا ب کاٹوں
تُجھے چین زرا سا ہو جائے
۔۔
ابھی ع لکھوں ، تُو سوچے
مجھے
پھر ش لکھوں ، تِری نیند
اُڑے
جب ق لکھوں ، تُجھے کُچھ
کُچھ ہو
مَیں عِشق لِکھوں ، تُجھے
ہو جائے ۔۔

Bohut alaw😍❤️
ReplyDelete