Apni Hi Awaaz Ko Be Shak Kaan Mein Rakhna



اپنی ہی آواز کو بے شک کان میں رکھنا


اپنی ہی آواز کو بے شک کان میں رکھنا
لیکن شہر کی خاموشی بھی دھیان میں رکھنا

میرے جھوٹ کو کھولو بھی اور تولو بھی تم
لیکن اپنے سچ کو بھی میزان میں رکھنا

کل تاریخ یقیناً خود کو دہرائے گی
آج کے اک اک منظر کو پہچان میں رکھنا

بزم میں یاروں کی شمشیر لہو میں تر ہے
رزم میں لیکن تلوار کو میان میں رکھنا

آج تو اے دل ترک تعلق پر تم خوش ہو
کل کے پچھتاوے کو بھی امکان میں رکھنا

اس دریا سے آگے ایک سمندر بھی ہے
اور وہ بے ساحل ہے یہ بھی دھیان میں رکھنا

اس موسم میں گل دانوں کی رسم کہاں ہے
لوگو اب پھولوں کو آتش دان میں رکھنا

احمد فراز

Comments

Popular posts from this blog

Ye Ishq Nahi Aasan by Mirza Galib

Dhanak Dhanak meri poroon ke khuwab kar dega by Parveen Shakir

Hazaron khoof ho lakin zaban ho dil ko rafeeq(ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق