Apne kamle per bhi kamli ki ata kar dijiye



اپنے کملے پر بھی کملی کی عطا کر دیجیے

 

اپنے کملے پر بھی کملی کی عطا کر دیجیے

اب مِرے دل کو بھی دنیا سے رہا کر دیجیے

 

اک بلائے وسوسہ کی زد میں ہیں لوگوں کے دل

صاحبِ والنّاس ہیں! ردِّ بلا کر دیجیے

 

زنگ آلودہ ہوئی جاتی ہیں آنکھیں یا نبی !!

ابرِ رحمت بھیج کر ان کو نیا کر دیجیے !

 

ہم اچھوتوں کا مسیحا اور تو کوئی نہیں

آپ ہیں ! بس آپ ہیں آقا ! شفا کر دیجئے !

 

آپ کے در پر کھڑے روتے ہیں یہ بِنتی لیے

آپ ہیں رب کے کُنور ! ہم کو شما کر دیجئے

 

یا رسول اللہ!!! پاکستان  ہندوستان کیا !

پورے عالم کے غریبوں کا بھلا کر دیجئے

 

یا نبی اللہ ! جنابِ آمنہ کا واسطہ

میری ماں کی قبر کو جنت کشا کر دیجیے

 

یا محمد یا علی  کہتے جو تھکتا ہی نہیں

میرے بابا کی ضعیفی کو ضیاء کر دیجئے

 

آپ  کی سرکار میں مقطع میں بھی ہو نام کیوں؟؟

جو مِرے آقا کی مرضی ! جو رضا ! کر دیجیے !!


Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

Ye Ishq Nahi Aasan by Mirza Galib

Dhanak Dhanak meri poroon ke khuwab kar dega by Parveen Shakir

Hazaron khoof ho lakin zaban ho dil ko rafeeq(ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق